میرا شوہر بہت نیک ہے... لیکن میرا حقِ زوجیت ادا نہیں کرتا!"

 

ایک بار سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت کعب اسدی رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک ایک عورت آئی اور سامنے کھڑی ہو کر بولی:

"امیر المؤمنین! میرا شوہر بہت نیک ہے۔ ساری رات تہجد پڑھتا رہتا ہے، اور سارا دن روزہ رکھتا رہتا ہے۔"

اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ حیران ہو گئے کہ یہ عورت کیا کہنے آئی ہے؟ جب وہ کچھ نہ بولی تو انہوں نے پوچھا، تو اس نے دوبارہ وہی بات دہرائی:

"امیر المؤمنین! میرا شوہر بہت نیک ہے۔ وہ ساری رات تہجد میں گزار دیتا ہے اور سارا دن روزہ رکھتا ہے۔"

حضرت کعب اسدی رضی اللہ عنہ مسکرائے اور بولے:

"اے امیر المؤمنین! اس نے اپنے شوہر کی بڑے خوبصورت انداز میں شکایت کی ہے۔"

عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "کیسی شکایت؟"


کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: "یعنی جب یہ ساری رات تہجد پڑھتا رہے گا اور سارا دن روزہ رکھتا رہے گا، تو پھر اس کی بیوی کو وقت کب دے گا؟ یہ کہنے آئی ہے کہ میرا شوہر نیک تو ہے، مگر مجھے وقت نہیں دیتا۔"

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً اس عورت کے شوہر کو بلایا۔ جب وہ آیا تو اس نے کہا کہ ہاں، میں مجاہدہ کرتا ہوں، تہجد پڑھتا ہوں، روزے رکھتا ہوں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہا: "آپ ہی فیصلہ فرمائیں۔"

حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے شوہر سے کہا:

"بھائی، شرعاً تم پر لازم ہے کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ اچھا وقت گزارو، اس کے ساتھ ہنسی خوشی رہو، اور کم از کم ہر تین دن بعد ایک بار اس کے ساتھ ہم بستری بھی کرو۔"

میاں بیوی خوش ہو کر چلے گئے۔

جب وہ چلے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا:

"آپ نے یہ تین دن والی شرط کیوں لگائی؟"

حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:

"دیکھیے، اللہ رب العزت نے مرد کو زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی اجازت دی ہے۔ اگر کوئی شخص چار شادیاں بھی کر لے، تو تین دن کے بعد پھر ایک بیوی کا نمبر آ جاتا ہے۔ اس لیے میں نے اسے کہا کہ تم زیادہ سے زیادہ تین دن عبادت کر سکتے ہو، چوتھے دن تمہیں اپنی بیوی کا حق ادا کرنا پڑے گا۔"

پھر مسکراتے ہوئے بولے:

"دیکھیے، شریعت انسان کو کتنی خوبصورت اور متوازن باتیں سکھاتی ہے!"

Comments