میاں بیوی رات میں ننگے ہو کر سونا


 اسلامی تعلیمات اور معاشرتی آداب کے مطابق میاں بیوی کا ایک ساتھ سونا اور قربت اختیار کرنا جائز ہے، بلکہ یہ محبت اور انسیت کو بڑھاتا ہے۔ لیکن اس کے کچھ شرعی اور اخلاقی پہلو بھی ہیں جو مدنظر رکھنا ضروری ہیں:



---


❖ میاں بیوی کا ننگے ہو کر سونا – اسلامی نقطہ نظر:


1. جائز ہے:

شوہر اور بیوی کے لیے ایک دوسرے کے سامنے ننگا ہونا شرعاً جائز ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا لباس ہیں، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا:


> "هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ"

(البقرہ: 187)





2. پردے کا خیال:

اگر وہ تنہائی میں ہوں، جہاں کسی اور کو دیکھنے کا امکان نہ ہو، تو ننگے ہو کر سونا جائز ہے۔ لیکن اگر کوئی دوسرا شخص قریب ہو (مثلاً بچے ایک ہی کمرے میں ہوں)، تو پردے کا خیال رکھنا لازم ہے۔



3. نبی کریم ﷺ کی سنت:

نبی کریم ﷺ کا طریقہ کار حیا اور پردے پر مبنی تھا۔ اگرچہ میاں بیوی کے لیے ایک دوسرے کے سامنے ننگا ہونا منع نہیں، مگر شرم و حیا کے دائرے میں رہنا بہتر عمل ہے۔



4. غسل یا طہارت کی حالت:

اگر میاں بیوی مباشرت کے بعد ننگے سوئیں اور ابھی غسل نہ کیا ہو، تو انہیں وضو کر لینا چاہیے۔ مکمل غسل نہ سہی، لیکن وضو کر کے سونا بہتر ہے۔





---


✅ خلاصہ:


تنہائی میں ننگے ہو کر سونا جائز ہے۔


پردے اور شرم و حیا کا خیال رکھنا افضل ہے۔


دیگر افراد موجود ہوں تو مکمل ستر کا اہتمام ضروری ہے۔


مباشرت کے بعد کم از کم وضو کر کے سونا سنت ہے۔




Comments