ڈاکٹر صاحب… آج چار سال ہو گئے ہیں۔
چار سال… ہر سال یہی وعدہ کہ “اب آ رہا ہوں”،
اور ہر سال کوئی نہ کوئی نئی وجہ۔
پچھلے سال کہا تھا، “پیسے جمع کر رہا ہوں…”
اور اس سال کہتے ہیں، “پروموشن لینی ہے…”
ان کی آواز میں تھکاوٹ تو تھی…
مگر اس کے ساتھ ایک عجیب سی بے اعتباری بھی۔
سب کہتے ہیں:
“صبر کرو… بہو ہو، صبر کرنا چاہیے تمہیں…”
لیکن ڈاکٹر صاحب…
یہ صبر کی حد کہاں ہوتی ہے؟
میں نے اپنی جوانی کاٹ دی اس انتظار میں…
اب بالوں میں سفیدی آنے لگی ہے،
چہرے پر جھریاں نظر آنے لگی ہیں…
(ہلکا سا وقفہ)
وہ رکی…
پھر بہت ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی:
“کل میری سہیلی کا شوہر اسے شاپنگ پر لے گیا تھا…
وہ ہنس رہی تھی… مسکرا رہی تھی…”
میں نے اسے دیکھا…
اور دل میں سوچا:
کیا میں بھی کبھی ایسا دن دیکھوں گی؟
کبھی میرے ساتھ بھی کوئی ہوگا…
جو مجھے شاپنگ پر لے جائے گا…؟
(آواز بھاری ہو جائے)
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے…
“کیا میری زندگی میں صرف انتظار ہی ہے؟
کبھی نہ ختم ہونے والا انتظار…؟”
یہ سوال…
ہر اُس عورت کا ہے،
جس کا شوہر بیرونِ ملک ہے…
اور وہ خود یہاں تنہائی کی دیواروں میں قید ہے۔
تم نے اپنی جوانی قربان کر دی…
اپنے خواب دفن کر دیے…
اپنی خواہشات مار دیں…
اور جواب کیا ملا؟
“وہ تو ہمارے مستقبل کے لیے جا رہے ہیں…
ان کی محنت تو میرے لیے ہے…”
لیکن ایک بات یاد رکھو—
تم کس چیز کو “مستقبل” سمجھتے ہو؟
کیا یہ مستقبل ہے…
کہ تمہاری بیوی یہاں گھٹ گھٹ کر مر جائے؟
کیا یہ مستقبل ہے…
کہ وہ راتوں کو روتی رہے؟
یا پھر…
وہ برے راستوں پر چل پڑے…
اپنی خواہشات کے ہاتھوں مجبور ہو کر
کسی اور مرد کا سہارا ڈھونڈنے لگے؟
(وقفہ… پھر مضبوط لہجہ)
ہمیں ایک سبق دیا گیا ہے—
حضرت عمرؓ کے دور کا ایک واقعہ…
ایک رات، وہ ایک گھر کے پاس سے گزرے…
وہاں ایک عورت شعر پڑھ رہی تھی۔
مفہوم یہ تھا:
“آج میرا شوہر جہاد پر گیا ہوا ہے…
اگر مجھے شریعت کا خوف نہ ہوتا،
تو آج میرے بستر پر کوئی اور مرد ہوتا…”
حضرت عمرؓ یہ سن کر فوراً اپنی بیٹی کے پاس گئے،
اور پوچھا:
“بیٹی، ایک عورت اپنے شوہر کے بغیر
کتنا عرصہ گزار سکتی ہے؟”
انہوں نے جواب دیا:
“دو ماہ… زیادہ سے زیادہ چار ماہ…”
(زور دے کر)
اور پھر حضرت عمرؓ نے قانون بنا دیا—
کہ کوئی بھی مجاہد
چار ماہ سے زیادہ گھر سے دور نہیں رہے گا۔
وہ واپس آئے گا…
اپنی بیوی کے حقوق ادا کرے گا۔
یہ واقعہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
بیوی کے حقوق ضروری ہیں۔
اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
جب جہاد جیسی عظیم ذمہ داری میں بھی
وقفہ دیا جا سکتا ہے…
تو باقی کاموں میں کیوں نہیں؟
کمانا عبادت ہے—
کماؤ… خوب کماؤ… محنت سے کماؤ…
لیکن…
کمانے کے نام پر
اپنی بیوی کو جدائی کے جہنم میں مت دھکیل دو۔
اسے گناہ پر مجبور مت کرو…
کیونکہ تم نہیں جانتے—
تمہاری بیوی کس تکلیف سے گزر رہی ہے…"

Comments
Post a Comment