ہمبستری نہ کرنے کے منفی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟


 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


ہمبستری نہ کر


نے کے منفی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟

اگر آپ اس موضوع کو اچھی طرح سمجھنا چاہتے ہیں تو پوسٹ آخر تک ضرور پڑھیں 


جس طرح میاں بیوی کے درمیان محبت ضروری ہوتی ہے، اسی طرح ایک دوسرے کا ساتھ اور قربت بھی بہت اہم ہوتی ہے۔ یہی قربت ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور مضبوط بناتی ہے۔ اسی طرح آپ کی زندگی کو کامیاب اور صحت مند بنانے کے لیے یہ معلومات بھی ضروری ہیں۔


یہ ایک حقیقت ہے کہ جسمانی تعلقات انسان کی فطری ضرورت ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلق نہ صرف رشتے کو مضبوط کرتا ہے بلکہ انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر بھی صحت مند رکھتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص مہینے میں صرف دو یا تین بار جنسی تعلق رکھتا ہے، یا اس سے بھی کم، تو اس کے کچھ منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔


زندگی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے، اور انسان کے اندر تناؤ بڑھنے لگتا ہے۔ اگر آپ ہفتے میں صرف ایک بار یا مہینے میں تین سے دس بار ہی سیکس کرتے ہیں، تو آہستہ آہستہ ذہنی دباؤ محسوس ہونے لگتا ہے۔


سیکس نہ کرنے کا اثر صرف آپ پر ہی نہیں بلکہ آپ کے ساتھی پر بھی پڑتا ہے۔ اگر آپ جنسی تعلق سے گریز کرتے ہیں اور آپ کے ساتھی کی خواہش پوری نہیں ہوتی، تو اس کے دل میں بھی بے چینی اور تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ شاید اس دوری کی وجہ کوئی تیسرا شخص تو نہیں۔


اس صورتحال کی وجہ سے موڈ میں تبدیلی، چڑچڑاپن، بے خوابی، بھوک میں کمی، اور مسلسل ذہنی دباؤ جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔


نمبر دو۔

قوتِ مدافعت میں کمی۔


جب میاں بیوی کے درمیان جسمانی تعلق کم ہو جاتا ہے، تو اس کا اثر جسم کے مدافعتی نظام پر بھی پڑ سکتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق جسمانی قربت کے دوران جسم میں ایک خاص قسم کا کیمیکل بنتا ہے جسے امیونوگلوبلین کہا جاتا ہے۔ یہ مادہ انسان کے جسم کو بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ جب یہ سرگرمی کم ہو جاتی ہے تو قوتِ مدافعت بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔


نمبر تین۔

ذہنی سکون اور خوشی میں کمی۔


جب انسان اپنے شریکِ حیات کے ساتھ قربت محسوس کرتا ہے تو اس کے جسم میں ڈوپامین نامی ہارمون پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہارمون خوشی اور اطمینان کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے انسان زیادہ پُرسکون اور خوش رہتا ہے۔

لیکن جب لمبے عرصے تک یہ قربت نہ ہو تو انسان اداسی اور مایوسی محسوس کرنے لگتا ہے، اور بعض اوقات اپنے آپ پر بھی شک کرنے لگتا ہے۔


نمبر چار۔

جسمانی تھکاوٹ اور کمزوری۔


اگر انسان کی زندگی میں جسمانی قربت بہت کم ہو جائے تو جسمانی توانائی اور جوش میں بھی کمی محسوس ہو سکتی ہے۔ انسان جلد تھکنے لگتا ہے اور روزمرہ کے کام بھی بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔


نمبر پانچ۔

جلد کی چمک میں کمی۔


سائنسی تحقیقات کے مطابق جنسی تعلقات کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو جلد کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باقاعدہ قربت رکھنے والے افراد کی جلد نسبتاً زیادہ تازہ اور چمکدار نظر آتی ہے۔ جبکہ طویل عرصے تک اس کمی کی وجہ سے جلد بے رونق اور پھیکی محسوس ہو سکتی ہے۔


نمبر چھ۔

میاں بیوی کے تعلقات میں تناؤ۔


اگر میاں بیوی کے درمیان قربت کم ہو جائے تو آہستہ آہستہ رشتے میں دوری پیدا ہونے لگتی ہے۔ بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بڑی غلط فہمیوں میں بدل جاتی ہیں۔ اس لیے ازدواجی زندگی میں قربت اور محبت کا توازن برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔


نمبر سات۔

پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ۔


کچھ سائنسی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جو مرد مہینے میں بیس بار یا اس سے زیادہ جنسی تعلق رکھتے ہیں، ان میں پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ نسبتاً کم پایا گیا ہے۔ جبکہ جو لوگ بہت کم جنسی سرگرمی رکھتے ہیں، ان میں اس خطرے کا امکان کچھ زیادہ دیکھا گیا ہے۔


نمبر آٹھ۔

جسمانی تکلیف اور دباؤ۔


بعض اوقات طویل عرصے تک جنسی تعلق نہ رکھنے کی وجہ سے مردوں میں جسمانی دباؤ یا تکلیف محسوس ہو سکتی ہے، کیونکہ جسم فطری طور پر اس عمل کے لیے تیار ہوتا ہے۔


یہ تمام باتیں اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان قربت صرف ایک جسمانی عمل نہیں بلکہ ایک جذباتی، ذہنی اور جسمانی ضرورت بھی ہے۔


قربت انسان کو اپنے ساتھی کے زیادہ قریب لے آتی ہے۔ یہ رشتے میں اعتماد، محبت اور سکون پیدا کرتی ہے۔ جو جوڑے ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں، وہ عموماً زیادہ خوش اور مطمئن زندگی گزارنے کی اطلاع دیتے ہیں۔


تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ عمل روزانہ ہی ہونا ضروری ہے۔ بہت سے ماہرین کے مطابق ہفتے میں ایک یا دو بار بھی کافی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ میاں بیوی کے درمیان محبت اور رضامندی موجود ہو۔


اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ازدواجی زندگی کو محبت، احترام اور اعتدال کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔


اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں۔


اور کمنٹس میں ایک بار ضرور لکھیں:

حضرت محمد ﷺ پر درود و سلام۔


اللہ حافظ۔

Comments