یہ سوال ہزاروں مرد مجھ سے بار بار پوچھتے ہیں، اور آج میں آپ کو وہ راز بتاؤں گی جسے بہت کم لوگ جانتے ہیں...
شریعت نے بیوی کو ہر طرح کی لذت کی اجازت دی ہے، لیکن حقیقی مزہ تب ملتا ہے جب دونوں کو سکون ملے۔
سنئے، کیا آپ بھی غلطی کر رہے ہیں؟"
اسلام وعلیکم ضروری مسائل ٹی وی کے پیارے ناظرین
نازرین، آج کی ویڈیو میں میں آپ کا وہ سوال بھی شامل کر رہی ہوں جو مجھ سے بار بار پوچھا گیا ہے۔ سوال یہ تھا کہ خواتین ہمبستری میں کیا پسند کرتی ہیں، آہستہ یا تیز اور یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ نازرین، جماع کی مشق جسم کے ساتھ ساتھ دوڑ کو سکون حاصل کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ شریعت نے بیوی کو ہر طرح سے ہمبستری کی اجازت دی ہے۔ یہ اس کے لیے مختلف طریقے بھی بتاتا ہے اور اس کے نمبر پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جب کہ ہمبستری کا اصل مقصد میاں بیوی کو لذت دینا ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں کو لذت ملے۔ اب ہمیں لذت حاصل کرنے کے اہم مسائل اور ان کے اصولوں کو سمجھنا ہوگا۔ جب تک ہم ان اصولوں کو نہیں سمجھیں گے اور ان پر عمل نہیں کریں گے، ہم حقیقی ملاپ کی حقیقی لذت سے محروم رہیں گے۔ میں تمہیں سکھا دوں گا کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔ اگر آپ نے ابھی تک میرا چینل سبسکرائب نہیں کیا ہے تو ضرور کریں تاکہ آپ میری نئی ویڈیوز دیکھ سکیں۔ تاکہ آپ بھی اسے حاصل کر سکیں، اللہ پاک نے مرد اور عورت کے درمیان جنسی تعلق قائم رکھا اور جائز طریقے سے الف سین حاصل کرنے کے لیے نکاح کا ایک خوبصورت نظام بنایا جس میں مرد اور عورت ایک دوسرے کو جنسی تسکین دے سکتے تھے، لیکن آج کے دور میں اکثر مرد جذباتی ہو جاتے ہیں اور نہ تو خود حقیقی اطمینان حاصل کر پاتے ہیں اور نہ ہی اپنے ساتھی کو دینے کے قابل ہوتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ایک بار اپنے ساتھی کو اندر ہی اندر کام کر لیتے ہیں۔ اوور، جبکہ ایسا نہیں ہے، میں اس پر ایک مکمل ویڈیو بنا چکا ہوں، یہ میرے چینل پر ہے، آپ اس ویڈیو کی تفصیل چیک کریں، اگر آپ میرے چینل کی ویڈیوز دیکھیں گے تو آپ کو کافی کے بارے میں معلومات ملیں گی، ویسے بھی، اب سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ ہمبستری کے آغاز میں کچھ دیر رفتار کو سست رکھیں، پھر ضرورت کے مطابق آہستہ آہستہ شروع کریں گے اور اگر آپ کا ساتھی بھی نہیں بڑھے گا تو آپ کو تیز ہو جائے گا۔ اطمینان، امید ہے آپ کو ویڈیو پسند آئی ہو گی، میرا چینل وزٹ کریں، مزید معلوماتی ویڈیوز دستیاب ہیں جو آپ کے علم میں اضافہ کریں گی، بہت شکریہ
Imran Khan

Comments
Post a Comment