دوسری عورتوں کے حسن و جمال یا خوبیوں کا ذکر نہ کریں (مذاق میں بھی نہیں):
شوہر کو چاہیے کہ بیوی کے سامنے کسی دوسری عورت (چاہے وہ فلم اداکارہ ہو، رشتہ دار ہو، یا کوئی مشہور شخصیت) کی خوبصورتی، انداز، یا کوئی خوبی کا ذکر نہ کرے۔ یہ بات مذاق میں بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، کیونکہ:
بیوی کے دل میں فوری بدگمانی پیدا ہو سکتی ہے کہ: "شاید شوہر کا دل کہیں اور ہے"۔
یہ حسد، کم خود اعتمادی، یا رنجش کا سبب بنتی ہے، جو رشتے میں دراڑ ڈال دیتی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں شوہر کو حکم ہے کہ بیوی کے ساتھ "حسنِ سلوک" کرے (سورۃ النساء: 19)، یعنی اچھے طریقے سے پیش آئے، اور ایسی باتیں جو دل آزاری کا باعث بنیں، ان سے گریز کرے۔
مزید وضاحت:
اگر مذاق میں بھی ایسی بات نکل جائے تو بیوی اسے سنجیدگی سے لے سکتی ہے، کیونکہ عورت کا دل نازک ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ شوہر بیوی کی تعریف کرے، اس کی خوبیوں کو سامنے لائے، تاکہ اس کا دل مطمئن رہے۔
2. بیوی پر حکمرانی کا حق ہے، مگر نامناسب یا انتہائی ناپسندیدہ کام کی فرمائش نہ کریں:
اسلام میں مرد کو گھر کا سربراہ اور قوام (نگران) بنایا گیا ہے (سورۃ النساء: 34)، یعنی وہ بیوی پر اپنا جائز حکم چلا سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب ظلم یا تکلیف دینا نہیں:
شوہر کو بیوی سے ایسا کام نہ کروائے جو اس کی جسمانی یا ذہنی طاقت سے باہر ہو (جیسے بھاری کام جو اسے بیمار کر دے)،
یا جو اسے انتہائی ناپسند ہو (جیسے کوئی ایسی بات جو اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرے)۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہو" (ترمذی)۔
مزید وضاحت:
حکمرانی رحم دلی اور انصاف کے ساتھ ہو۔ اگر بیوی کسی کام سے گریز کرے تو اس کی وجہ سنیں، سمجھیں، اور متبادل تلاش کریں۔ سختی سے زیادہ محبت اور نرمی سے بات چیت بہتر نتائج دیتی ہے۔
3. غلطیوں کی اصلاح کے لیے روک ٹوک جاری رکھیں، مگر انداز بدلتے رہیں:
بیوی کی غلطیوں کو نظر انداز نہ کریں، کیونکہ یہ گھر کی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔ لیکن انداز میں تنوع رکھیں:
کبھی سختی اور غصے سے (مگر حد سے نہ گزریں، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ غصہ شیطان سے ہے)،
کبھی محبت، پیار، ہنسی مذاق اور نرمی سے بات کریں۔
مزید وضاحت:
اصلاح کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ بہتری لانا ہے۔ نرمی سے بات کرنے سے بیوی دل سے قبول کرتی ہے، جبکہ سختی سے اکثر ضد پیدا ہو جاتی ہے۔ نبی ﷺ کی سیرت میں بیویوں کے ساتھ نرمی اور مزاح کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔
4. سفر سے جانے اور واپسی پر پیار بھرا رویہ:
سفر سے نکلتے وقت بیوی سے پیار سے ملاقات کریں، ہنسی خوشی سے الوداع کہیں (دعا دیں، گلے لگائیں)۔
واپسی پر ضرور کچھ تحفہ یا سامان بیوی کے لیے لائیں، اور کہیں: "یہ خاص تمہارے لیے لایا ہوں"۔
مزید وضاحت:
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بیوی کے دل میں محبت اور اہمیت کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ نبی ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ بہت شفقت اور توجہ فرماتے تھے، حتیٰ کہ سفر سے واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے۔ یہ عمل رشتے کو مضبوط بناتا ہے، اور بیوی کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ شوہر کی ترجیح ہے۔
یہ تمام نصیحتیں میاں بیوی کے درمیان محبت، احترام اور سکون کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔ اگر شوہر ان پر عمل کرے تو گھر میں خوشی اور برکت آتی ہے، اور اگر کوئی غلطی ہو تو فوراً معافی مانگ لیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سب کو اچھے اخلاق اور خوشگوار ازدو
اجی زندگی عطا فرمائے۔ آمین

Comments
Post a Comment