رمضان المبارک میں بار بار ہمبستری کرنا کیوں ضروری ہوتا ہے


 رمضان المبارک میں بار بار ہمبستری کرنا کیوں ضروری ہوتا ہے

رمضان میں ہمبستری کرنے کے تین بڑے فائدے اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم پیارے دوستو رمضان المبارک برکتوں رحمتوں اور مغفرت کا وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی اپنے بندوں پر بے شمار انعامات نازل فرماتا ہے مگر کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں آتے ہیں اور ان کے واضح جوابات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوتے ہیں کیا رمضان میں میاں بیوی کے تعلقات قائم کرنا جائز ہے کیا روزے کی حالت میں بیوی کے ساتھ شیڑ شاڑ بوسہ دینا یا گلے لگانا منع ہے یا بیوی کے قریب سونا اور اس کا ہاتھ پکڑنا روزے پر اثر انداز ہوتا ہے اور سب سے حیران کن بات کیا رمضان میں بار بار ہمبستری کرنا ضروری ہوتا ہے یہ وہ سوالات ہیں جن پر کئی لوگ شکوک و شبہات کا شکار ہیں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ رمضان کے مہینے میں میاں بیوی کا ایک دوسرے کے قریب آنا بالکل منع ہے جبکہ کچھ لوگ اس بارے میں مکمل آگاہی نہیں رکھتے پیارے دوستو ازدواجی تعلق نہ صرف میاں بیوی کے درمیان محبت اور سکون کا ذریعہ ہے بلکہ یہ اللہ تعالی کی خاص رحمت کے نزول کا بھی سبب بنتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میاں بیوی ایک دوسرے کو محبت بھری نظر سے دیکھتے ہیں تو اللہ ان پر رحمت کی نظر فرماتا ہے اللہ تعالی نے ازدواجی تعلق کو نسل انسانی کی بقا کا ذریعہ بنایا اور اولاد جیسی نعمت عطا فرمائی جو والدین کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتی ہے ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دوستو سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ روزے کی حالت میں کھانے پینے اور دیگر مخصوص کاموں سے منع کیا گیا ہے اور انہی میں میاں بیوی کا تعلق بھی شامل ہے لیکن یاد رکھیں اگر روزہ افطار کر لیا جائے اور سحری سے پہلے کا وقت ہو تو میاں بیوی کے لیے ایک دوسرے کے قریب آنا شرعی طور پر جائز ہے قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے وہ تمہارا لباس ہے اور تم ان کے لباس ہو یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ روزے کی حالت میں میاں بیوی کو ایک دوسرے سے دور رہنے کا حکم ہے لیکن رات کے وقت اس کی اجازت ہے رمضان میں افطار کے بعد سے لے کر سحری تک میاں بیوی کے تعلقات جائز ہیں مگر اس کے آداب اور شرعی تقاضوں کا خیال رکھنا ضروری ہے رمضان کا مہینہ عبادت دعا ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن کے لیے مخصوص ہے اس لیے وقت کا درست استعمال ضروری ہے تاکہ دینی فرائض میں کوئی کوتاہی باقی نہ رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میاں بیوی جائز طریقے سے اپنی خواہش پوری کریں تو یہ بھی نیکی ہے اور اس پر اجر و ثواب ملتا ہے رمضان میں نیک اعمال کا ثواب ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے اس لیے اگر کوئی شرعی حدود میں رہتے ہوئے اس حوالے سے نیت درست رکھے تو یہ بھی باعث برکت ہو سکتا ہے بلکہ دوستو رمضان المبارک میں ہمبستری کرنے کے تین بڑے فائدے ہیں علمائے کرام فرماتے ہیں کہ رمضان میں پیدا ہونے والی نسل زیادہ نیک اور صالح ہوتی ہے کیونکہ اس وقت والدین کی نیتیں صاف دل پاکیزہ اور عبادات کی برکت سے ان کے جسمانی اثرات بھی مثبت ہوتے ہیں رمضان المبارک میں کی جانے والی عبادات انسان کے دل کو نرم اور روح کو پاکیزہ کر دیتی ہیں اس مہینے میں ہر مسلمان نیک اعمال میں مشغول رہتا ہے زیادہ عبادت کرتا ہے قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اور اللہ کی رحمتوں سے فیض یاب ہوتا ہے جب ایک انسان کی روحانی کیفیت بہتر ہوتی ہے تو اس کے اعمال بھی پاکیزہ ہو جاتے ہیں اور ایسے وقت میں اگر میاں بیوی کے درمیان تعلق قائم ہو تو اس کا اثر ان کی نسل پر بھی پڑتا ہے رمضان میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے لیکن اس کے اثرات اور وصف سے بعض اوقات انسان کے نفس میں باقی رہ جاتے ہیں اسلام میں نکاح کو آدھا ایمان قرار دیا گیا ہے اور حلال طریقے سے اپنی خواہشات پوری کرنا باعث ثواب ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میاں بیوی اللہ کا نام لے کر ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو شیطان ان کے درمیان داخل نہیں ہو سکتا رمضان میں ہمبستری کرنے سے میاں بیوی کے درمیان محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے قریب آکر شیطانی وسوسوں اور برائیوں سے محفوظ رہتے ہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق رمضان میں کیے جانے والے نیک اعمال کا ثواب ستر گنا زیادہ ملتا ہے جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اگر میاں بیوی نکاح کے ذریعے اپنی فطری خواہشات پوری کریں تو کیا انہیں اس پر بھی ثواب ملے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگر کوئی حرام طریقے سے ایسا کرے تو گناہ ملے گا اور اگر وہ حلال طریقے سے کرے تو اسے اجر ملے گا اسی لیے رمضان میں میاں بیوی کے درمیان تعلقات نہ صرف جائز ہیں بلکہ ان پر ثواب بھی ملتا ہے اور اس سے دونوں کے درمیان محبت اور قربت میں اضافہ ہوتا ہے یہ تین فائدے ایسے ہیں جنہیں جان کر بہت سے لوگ حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رمضان میں ہمبستری مکمل طور پر منع ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ یہ عمل صرف رات کے وقت کیا جائے کیونکہ روزے کی حالت میں ایسا کرنا شرعا منع ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روزے کی حالت میں بیوی کے ساتھ قربت کے کیا حدود و قیود ہیں کیا بوسہ دینا گلے لگانا جائز ہے تو آئیے اب اس پر بات کرتے ہیں دوستو رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کا بنیادی مقصد تو اللہ کی رضا حاصل کرنا اور اپنے نفس پر قابو پانا ہے دن کے وقت کھانے پینے سے رکنے کے ساتھ ساتھ ہر وہ عمل جو روزے کو توڑ سکتا ہے یا اس کے مقصد کے خلاف جا سکتا ہے اس سے بھی اجتناب کرنا ضروری ہے لیکن بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ روزے کی حالت میں میاں بیوی کے تعلقات کے کیا شرعی حدود ہیں کیا بیوی سے محبت کا اظہار کرنا بوسہ دینا ہاتھ لگانا یا قربت اختیار کرنا جائز ہے تو دوستو یاد رکھیں کہ اسلام میں میاں بیوی کے درمیان محبت اور الفت کو برقرار رکھنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ازدواجی تعلقات محبت پر ہی قائم ہوتے ہیں چنانچہ روزے کی حالت میں بیوی سے محبت کا اظہار کرنا جائز ہے لیکن اس میں اعتدال کا دامن تھامنا ضروری ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے روزے کی حالت میں محبت کا اظہار فرمایا کرتے تھے حدیث میں آتا ہے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا روزے کی حالت میں بیوی کو بوسہ دیا جا سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن اگر تم اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہو یہاں فقہ کہتے ہیں کہ نوجوان افراد جو جذبات میں زیادہ بہک سکتے ہیں انہیں زیادہ احتیاط کرنی چاہیے جبکہ بڑی عمر کے افراد کے لیے کچھ نرمی ہو سکتی ہے اسی طرح بہت سے لوگ یہ پوچھتے ہیں کیا روزے کی حالت میں بیوی کے ساتھ ایک ہی بستر پر سونا جائز ہے تو اس حوالے سے اسلامی تعلیمات یہ ہیں اگر کسی شخص کو یہ خدشہ ہو کہ بیوی کے ساتھ سونے سے اس کے جذبات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں تو اسے احتیاط کرنی چاہیے اسلام نے میاں بیوی کے درمیان محبت اور تعلقات کے لیے واضح اصول بیان کیے ہیں رمضان کے دنوں میں اگرچہ روزے کی حالت میں مباشرت جائز نہیں لیکن محبت کے معمولی اظہار کی اجازت ہے

Comments