روزے کی حالت میں بیوی کیساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا کر بوسہ دینا، گلے لگانا، ساتھ لیٹ جانا بیوی کی شرم گاہ پر ہاتھ لگانا جائز ہے یا نہیں؟


ضروری مسائل ٹی وی کے پیارے ناظرین اور بہن بھائیوں، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

واہ بھئی واہ! رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے، دل خوش ہو جاتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ روزے رکھ کر اللہ کی رضا حاصل کر رہے ہیں۔ آپ سب خیریت سے ہوں گے نا؟ روزہ کیسا گزر رہا ہے؟ بھوک پیاس تو برداشت ہو ہی رہی ہے، لیکن اصل امتحان تو دل اور نظر کا ہوتا ہے نا؟ 😊

آج ایک بہت ہی دلچسپ اور حساس سوال کا جواب دینے جا رہا ہوں، جو بہت سے میاں بیوی پوچھتے ہیں، لیکن شرم کی وجہ سے کھل کر نہیں بتاتے۔ سوال یہ ہے:

روزے کی حالت میں بیوی سے چھیڑ چھاڑ، گلے ملنا، بوسہ لینا، چھاتی چھونا یا چوسنا، شرمگاہ کو چھونا – یہ سب جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہو تو کب تک اور کس حد تک؟

چلیں، آج ہم اسے مزے مزے سے، آسان زبان میں، اور مکمل احتیاط کے ساتھ سمجھتے ہیں – کیونکہ رمضان ہے، غلطی کی گنجائش کم رکھنی ہے!

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ نبی کریم ﷺ خود روزے میں اپنی ازواج مطہرات سے بوسہ لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "آپ ﷺ سب سے زیادہ نفس پر قابو رکھنے والے تھے۔" یعنی اگر کوئی واقعی قابو رکھ سکتا ہے تو جائز ہے۔

اب مرحلہ وار دیکھتے ہیں:

ایک ہی بستر پر سونا، بیٹھنا، گلے لگانا

جی ہاں! بالکل جائز ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے قریب ہو سکتے ہیں، پیار کا اظہار کر سکتے ہیں – بشرطیکہ "آگ نہ بھڑکے" یعنی شہوت اتنی نہ بڑھے کہ کنٹرول باہر ہو جائے۔ اگر آپ کو یقین ہے کہ "بس اتنا ہی" تو ٹھیک، ورنہ احتیاط کرو بھائی!

بوسہ لینا (چومنا)

جائز ہے، خاص طور پر چہرے، گال، ہاتھ وغیرہ پر۔ لیکن ہونٹوں پر اگر شدید شہوت پیدا ہو تو مکروہ (ناپسندیدہ) ہو جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے ایک نوجوان کو منع فرمایا تھا، بوڑھے کو اجازت دی – مطلب عمر اور نفس کے قابو کا معاملہ ہے۔

چھاتیوں کو چھونا یا بوسہ لینا

اگر محض پیار ہو، شہوت نہ بھڑکے تو جائز۔ لیکن اگر لذت لینے کا ارادہ ہو تو مکروہ۔

سینوں کو چوسنا (مص الثدی)


یہ مکروہ ہے بھائی! کیونکہ یہ جماع کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر دودھ نکل آیا اور نگل لیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا – قضا تو واجب، اور بعض صورت میں کفارہ بھی۔ اگر دودھ نہ نکلے تو روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن پھر بھی پرہیز کرو – رمضان میں کیا ضرورت ہے ایسی چیز کی؟

شرمگاہ کو چھونا

اگر بالکل ہلکا پھلکا پیار ہو، بغیر لذت کے تو جائز کہا جا سکتا ہے۔ لیکن عام طور پر مکروہ ہے کیونکہ ۹۹٪ کیسز میں شہوت بڑھ جاتی ہے۔ اگر چھونے سے منی (انزال) نکل گئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا – صرف قضا، کفارہ نہیں۔ اگر صرف مذی نکلے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔

مباشرت فاحشہ (ننگے جسم کا ملنا، شرمگاہوں کا براہ راست رابطہ)

مطلقاً مکروہ، چاہے انزال نہ ہو۔

جماع (دخول)

بالکل حرام دن میں! روزہ ٹوٹ جاتا ہے، قضا کے ساتھ کفارہ واجب (۶۰ مسلسل روزے یا ۶۰ مسکینوں کو کھانا)۔

خلاصہ آسان الفاظ میں (یاد رکھو!):

گلے ملنا، بستر پر سونا → جائز (قابو میں رہے تو)

بوسہ، چھاتی چھونا → جائز اگر شہوت نہ بھڑکے، ورنہ مکروہ

چوسنا → مکروہ، دودھ نگلنے سے روزہ ٹوٹے گا

شرمگاہ چھونا → عام طور پر مکروہ، انزال سے روزہ ٹوٹے گا

جماع → حرام + قضا + کفارہ

اب میرا ذاتی، بھائیوں والا مشورہ:

روزہ تو ضبط نفس کا سب سے بڑا امتحان ہے نا؟ رمضان میں شیطان زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے، تو ہم خود کو کیوں آزمائیں؟ دن میں تھوڑی سی بھی چھیڑ چھاڑ سے شہوت بھڑک سکتی ہے، پھر پچھتاوا ہو گا۔ بہتر ہے کہ احتیاط کرو، رات کا انتظار کرو – رات تو پوری آزادی ہے اللہ نے دی ہے!

اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزوں کو قبول فرمائے، ہمیں تقویٰ عطا فرمائے، اور گناہوں سے بچائے۔ آمین یا رب العالمین۔

اگر کوئی سوال ہو تو کمنٹس میں پوچھو، ان شاء اللہ جواب دوں گا۔

اب جلدی سے سبسکرائب کرو، لائک کرو، شیئر کرو – تاکہ دوسرے بھائی بہن بھی فائدہ اٹھائیں۔

جزاک اللہ خیراً کثیراً!

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ 🌙✨

Comments