ہمبستری کی مختلف اور مزیدار طریقے


 اسلام علیکم، اور خوش آمدید!

آج ہمیں ایک بہن کا سوال موصول ہوا ہے، جو واقعی بہت اہم اور حساس نوعیت کا ہے۔

وہ بہن اس وقت 29 سال کی ہیں۔ ان کی شادی 16 سال کی عمر میں ہوئی تھی، اور وہ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی تھیں۔

ایک موقع پر ان کے شوہر نے ہمبستری کے دوران مختلف انداز اختیار کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

بہن نے اس پر انکار کر دیا۔ اس کے بعد شوہر نے دوبارہ کبھی یہ بات نہیں چھیڑی۔

بعد میں کچھ وجوہات کی بنا پر طلاق ہو گئی، اور شوہر نے دوسری شادی کر لی۔

اب بہن کا سوال یہ ہے:

کیا پہلے شوہر کی یہ خواہش درست تھی یا غلط؟

اور اب دوسرے شوہر کے ساتھ مختلف انداز میں ازدواجی تعلق قائم کرنے کا کیا شرعی حکم ہے؟

سب سے پہلے یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ

میاں بیوی کے درمیان جماع کے مختلف انداز اختیار کرنا فطری بھی ہے، جائز بھی، اور حلال بھی—

بشرطیکہ چند شرعی حدود کا خیال رکھا جائے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ"

(تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو تم اپنی کھیتی میں آؤ جس طرح چاہو۔)

— سورۃ البقرہ: 223

اس آیت کی تفسیر میں نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ سے واضح طور پر یہ بات منقول ہے کہ

میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ جس انداز میں چاہیں ازدواجی تعلق قائم کر سکتے ہیں—

آگے سے، پیچھے سے (یعنی بیوی کے چہرے یا پشت کی طرف سے)،

لیٹ کر، بیٹھ کر، یا کسی بھی پوزیشن میں—

بس شرط یہ ہے کہ دخول صرف اگلی شرمگاہ (فرج) میں ہو،

وہی جگہ جہاں سے اولاد پیدا ہوتی ہے۔

اب چند باتیں ایسی ہیں جو اسلام میں سختی سے منع ہیں:

دُبر، یعنی پچھلے راستے (مقعد) میں جماع کرنا —

یہ سخت حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، اور اس پر لعنت وارد ہوئی ہے۔

حیض یا نفاس کی حالت میں فرج میں جماع۔

بیوی کی رضامندی کے بغیر زبردستی۔

ایسا غیر فطری یا تکلیف دہ مطالبہ جو بیوی کے لیے اذیت کا سبب بنے۔

اکثر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ

صرف ایک ہی روایتی انداز—یعنی عورت نیچے اور مرد اوپر—ہی درست ہے،

اور اس کے علاوہ ہر انداز غیر اخلاقی یا بیہودہ ہے۔

لیکن یہ سوچ درست نہیں۔

اسلام نے میاں بیوی کے درمیان

لذت، محبت، قربت اور سکون کو جائز قرار دیا ہے۔

اگر دونوں راضی ہوں، آرام دہ محسوس کریں، اور شرعی حدود میں رہیں

تو ہر جائز انداز حلال ہے۔

آپ کی پہلی شادی میں جو ایک مخصوص "تصویر" ذہن میں بنی ہوئی تھی

کہ صرف ایک ہی انداز درست ہے—

وہ دراصل معاشرتی غلط فہمی یا لاعلمی کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

اب، نئی ازدواجی زندگی میں اگر شوہر مختلف انداز کی خواہش ظاہر کریں،

اور آپ خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر آرام دہ محسوس کریں،

تو بلاوجہ انکار نہ کریں۔

یہ چیز میاں بیوی کے درمیان

محبت، قربت اور اعتماد کو بڑھاتی ہے۔

اور اگر کوئی انداز آپ کو تکلیف دیتا ہو

تو خاموش رہنے کے بجائے نرمی سے بات کریں،

شوہر کو سمجھائیں۔

یاد رکھیں—

ازدواجی زندگی کی بنیاد

باہمی رضامندی، نرمی، احترام اور کھلی گفتگو پر ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو ایک خوشگوار، پاکیزہ اور پرسکون ازدواجی زندگی عطا فرمائے۔

آمین۔

اگر یہ ویڈیو آپ کو فائدہ مند لگی ہو

تو لائک کریں،

چینل کو سبسکرائب کریں،

اور کمنٹس میں اپنی رائے ضرور شیئر کریں۔

اللہ حافظ۔


Comments