بیوی کے منہ میں نفس ڈالنا شرعی
طور پر پسندیدہ عمل نہیں ہے، کیونکہ نہ قرآن میں اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے۔
سورة البقرہ آیت 223 میں فرمایا گیا ہے :
" تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس اپنی بھیتی میں جیسے چاہو آؤ، اس سے مراد عورت کی اگلی شرمگاہ ہے، نہ کہ منہ یا پچھو کا مقام ۔ ایک حدیث میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ صحبت کا تعلق صرف فرج (اگلے مقام ) میں ہونا چاہیے۔ علماء کے فتاوی کے مطابق یہ عمل مکروہ ہے، کیونکہ منہ ایک پاک جگہ ہے جہاں قرآن کی تلاوت اور اللہ کا ذکر کیا جاتا۔

Comments
Post a Comment