"بیوی کو پیچھے سے ڈالنے" کا مطلب کیا ہے؟
اگر اس کا مطلب پیچھے سے مباشرت ہے (یعنی پیچھے سے دخول مگر شرمگاہ میں)، تو:
✅ اسلام میں جائز ہے:
شوہر اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے سے (یعنی پوزیشن) مباشرت کر سکتا ہے بشرطیکہ دخول شرمگاہ میں ہو۔
> نبی ﷺ نے فرمایا:
"بیوی کے ساتھ جو چاہو کرو، بس شرمگاہ کے علاوہ کسی اور جگہ نہ کرو۔"
(مسند احمد، صحیح سند کے ساتھ)
❌ مقعد (پاخانہ کی جگہ) میں دخول:
اسلام میں سختی سے منع ہے اور یہ حرام ہے۔
> نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اپنی بیوی سے پیچھے (مقعد میں) مباشرت کرے، وہ ملعون ہے۔"
(ترمذی)
---
🔹 "جوانی میں شوہر بیوی پر کیسے ڈالے؟"
اگر مطلب یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے جذباتی اور جسمانی تعلق کس طرح بنائے؟
تو یہاں چند باتیں اہم ہیں:
✅ 1. محبت اور عزت سے پیش آئے:
بیوی کو جسمانی تعلق سے پہلے ذہنی طور پر تیار کرنا اور عزت دینا ضروری ہے۔
✅ 2. خوشبو، صفائی، اور نرمی:
بیوی کے ساتھ مباشرت سے پہلے خوشبو لگانا، صفائی رکھنا اور نرمی اختیار کرنا نبی ﷺ کی سنت ہے۔
✅ 3. بیوی کی رضامندی:
اسلام میں تعلق رضامندی اور خوشی کے ساتھ ہونا چاہیے، زبردستی گناہ اور ظلم ہے۔
---
❓ "اگر شوہر پیچھے سے ڈالنے میں عزت کرے تو بیوی کیا کرے؟"
اگر شوہر بیوی کے ساتھ عزت، پیار، اور نرم مزاجی سے پیش آتا ہے اور اسلامی دائرے میں رہ کر تعلق قائم کرتا ہے، تو:
✅ بیوی کا کردار:
1. شکر گزار ہو:
بیوی کو چاہیے کہ شوہر کی محبت، ادب اور عزت کی قدر کرے۔
2. محبت سے جواب دے:
بیوی بھی نرمی اور محبت سے پیش آئے تاکہ تعلق مضبوط ہو۔
3. شوہر کی خوشی کا خیال رکھے:
اسلامی دائرے میں شوہر کی جسمانی اور جذباتی ضروریات کا خیال رکھنا بیوی کی ذمہ داری ہے، جیسے شوہر کو بیوی کی۔
---
📌 خلاصہ:
معاملہ اسلامی حکم
بیوی سے پیچھے سے (پوزیشن) مباشرت جائز (شرمگاہ میں ہو)
بیوی سے مقعد میں دخول حرام
شوہر
عزت سے تعلق بنائے بیوی کا فرض ہے محبت و تعاون کرے
بیوی کی رضامندی لازم ہے

Comments
Post a Comment