سوال یہ ہے کہ اگر عورت کا شوہر سفر پر ہو اور قریب موجود نہ ہو، تو بیوی کی جنسی خواہش کا کیا حل ہے۔ یہ ایک اہم اور حساس موضوع ہے، آئیے مختلف پہلوؤں سے دیکھتے ہیں:
---
1. شرعی پہلو
اسلام میں عورت اور مرد دونوں کے لیے اپنی خواہشات کو صرف حلال طریقے یعنی نکاح کے اندر پورا کرنا جائز ہے۔
اگر شوہر سفر پر ہو تو بیوی کے لیے صبر کرنا اور اپنے آپ کو حرام یا ناجائز کاموں (جیسے زنا، خود لذّتی یا کسی غیر سے تعلق) سے بچانا لازم ہے۔
اگر شوہر لمبے عرصے تک سفر پر رہتا ہے تو بیوی حق رکھتی ہے کہ شوہر سے بات کرے تاکہ وہ زیادہ دیر کے لیے نہ چھوڑے، یا پھر کسی شرعی حل کی طرف رجوع کرے۔
---
2. بیوی کے لیے عملی تدابیر
اپنی توانائی کو عبادت، تلاوت، مطالعہ، ورزش، یا گھریلو مصروفیات میں لگائیں تاکہ غیر ضروری خیالات کم ہوں۔
اگر شوہر قریب وقت میں واپس آنے والا ہے تو صبر اور ضبط بہتر ہے۔
آج کے دور میں شوہر اور بیوی ویڈیو کال یا بات چیت کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب محسوس کر سکتے ہیں، لیکن حدود و شرع کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
---
3. شوہر کی ذمہ داری
شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو لمبے عرصے تک اکیلا نہ چھوڑے۔
نبی ﷺ کے زمانے میں بھی یہ ہدایت ہے کہ شوہر کو بیوی سے زیادہ وقت جدا نہیں رہنا چاہیے (عام طور پر 4 ماہ سے زیادہ نہیں)۔
---
🔹 خلاصہ: اگر شوہر مسافر ہو تو بیوی کو صبر کرنا چاہیے اور اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے حلال اور مثبت مصروفیات اختیار کرنی چاہئیں۔ ہمبستری کا اصل حل صرف شوہر کی واپسی پر ہی ممکن ہے۔

Comments
Post a Comment