ہزاروں سال پہلے جزیرہ نما عرب کے علاقے یمن میں ایک شہر آباد تھا جسے سبا کہا جاتا تھا۔ وہاں کے لوگوں کو "مسَبّاہ" کہہ کر پکارا جاتا

 ہزاروں سال پہلے جزیرہ نما عرب کے علاقے یمن میں ایک شہر آباد تھا


جسے سبا کہا جاتا تھا۔ وہاں کے لوگوں کو "مسَبّاہ" کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ یہ لوگ نہایت ہی نرم دل اور سیدھے راستوں پر چلنے والے تھے۔ ہر طرف سرسبز کھیتیاں اور پھلوں سے لدے باغات تھے۔ لیکن وہ سورج کی پرستش کیا کرتے تھے۔


جب ان کے بادشاہ "جَل بن مالک" کا انتقال ہوا تو اس کی بیٹی ملکہ بلقیس نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ ملکہ بلقیس کے والدین میں سے ایک جنتی تھا لیکن اس روایت کی کوئی مستند دلیل نہیں ملتی۔ بہرحال، بلقیس ایک نہایت ہی قابل اور دانا عورت تھی جس نے کئی سال نہایت حکمت و تدبیر سے حکومت کی۔ اس قوم کے پاس بے پناہ دولت اور تجارت کے مواقع تھے، یہی وجہ ہے کہ یہ قوم بہت خوشحال تھی۔


یہ وہ زمانہ تھا جب مشرق سے مغرب تک ایک عظیم بادشاہت کی حکومت تھی، جس کا نام حضرت سلیمان علیہ السلام بن داؤد علیہ السلام تھا۔ اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو جنّات، پرندوں، ہواؤں اور جانوروں پر حکمرانی عطا فرمائی تھی۔


ہُدہُد کی خبر


ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام نے دربار لگایا۔ جنات، جانور اور پرندے سب حاضر تھے مگر ان کا محبوب پرندہ ہُدہُد غائب تھا۔ آپ نے فرمایا:

"اگر ہُدہُد نے اپنی غیر حاضری کی معقول وجہ نہ بتائی تو میں اسے سخت سزا دوں گا۔"


کچھ دیر بعد ہُدہُد حاضر ہوا اور عرض کیا:

"اے اللہ کے نبی! میں ایک ایسے ملک سے ہو کر آیا ہوں جہاں کے لوگ سورج کی پرستش کرتے ہیں۔ ان کی ایک ملکہ ہے جسے بلقیس کہا جاتا ہے۔ وہ ایک عظیم تخت پر بیٹھ کر حکومت کرتی ہے۔ اس کا تخت قیمتی جواہرات سے مزین ہے اور اس کے پاس شاہی ساز و سامان کثرت سے موجود ہے۔"


یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:

"اگر تمہاری بات درست ہے تو میرا یہ خط اس ملکہ تک پہنچا دو۔"


سلیمان علیہ السلام کا خط


حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط یوں شروع ہوتا تھا:

"شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ یہ عزت والا خط سلیمان بن داؤد کی جانب سے ملکہ سبا کے نام ہے۔ جو ہدایت کی پیروی کرے، اس کے لیے سلامتی ہے۔ مجھ پر غلبے کی کوشش نہ کرو، بلکہ فرماں بردار ہو کر میرے پاس آؤ۔"


ہُدہُد یہ خط لے کر ملکہ بلقیس کے پاس پہنچا اور اس کی گود میں جا ڈالا۔ جب بلقیس نے اپنے درباری سرداروں کے ساتھ خط پڑھا تو سب غصے میں آگئے اور کہا کہ یہ توہین ہے، ہمیں جنگ کرنی چاہیے۔ لیکن بلقیس بہت سمجھدار تھی۔ اس نے کہا:

"یہ خط کسی عام انسان کا نہیں، بلکہ کسی اللہ کے نبی کا لگتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم دیکھیں وہ کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ میں ان کے پاس تحفہ بھیجتی ہوں، اگر انہوں نے قبول کرلیا تو وہ بادشاہ ہیں، اور اگر رد کر دیا تو وہ نبی ہیں۔"


تحفہ اور ردعمل


ملکہ نے قیمتی تحائف بھیجے۔ لیکن جب وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا:

"کیا تم اپنے مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ تمہارا تحفہ واپس لے جاؤ۔"


یہ سن کر بلقیس کو یقین ہوگیا کہ واقعی حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں۔


تخت لانے کا معجزہ


حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:

"تم میں سے کون ہے جو ملکہ بلقیس کا تخت میرے پاس لائے اس سے پہلے کہ وہ لوگ میرے پاس حاضر ہوں؟"


ایک جنّ نے کہا:

"میں اسے آپ کے دربار ختم ہونے سے پہلے لے آؤں گا۔"

مگر ایک عالم، جس کے پاس کتاب کا علم تھا (جسے بعض روایات میں حضرت آصف بن برخیا کہا گیا ہے)، اس نے کہا:

"میں اسے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔"


اور واقعی، پلک جھپکتے ہی حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے بلقیس کا تخت موجود تھا۔ آپ نے فرمایا:

"یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔"


بلقیس کا اسلام قبول کرنا


حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس تخت میں کچھ تبدیلیاں کر دیں تاکہ ملکہ کو آزمایا جائے۔ جب بلقیس دربار میں آئی تو اس نے کہا:

"یہ میرا ہی تخت معلوم ہوتا ہے!"


پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے ایک محل میں لے جایا جس کا فرش شیشے کا تھا اور اس کے نیچے پانی رواں تھا۔ بلقیس نے اسے پانی کا حوض سمجھا اور اپنی پائنچیاں اٹھا لیں۔ تب حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:

"یہ پانی نہیں، بلکہ شیشے کا فرش ہے۔"


اس پر بلقیس شرمندہ ہوئی اور بولی:

"اے میرے رب! میں نے سورج کی پرستش کرکے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ ربّ العالمین کے آگے سر جھکاتی ہوں۔"


یوں ملکہ بلقیس ایمان لے آئی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی اطاعت قبول کر لی۔



---


✨ یہ تھا قرآن و تاریخ میں مذکور حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کا واقعہ، جسے علما اور مؤرخین نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔



Comments