کیا عورت کو صرف سیدھا لیٹا کر مباشرت کرنی چاہیے؟
صرف ایک ہی
پوزیشن (سیدھی لیٹ کر) ہمیشہ اختیار کرنا درست نہیں، کیونکہ اس میں نہ مرد کو مکمل مزہ آتا ہے اور نہ عورت کی فطری ضرورت پوری ہوتی ہے۔
عورت کی جسمانی ساخت اور نفسیات کے مطابق اس کو بھی قربت میں سکون و راحت چاہیے، اور اگر وہ پوری نہ ہو تو نکاح کا اصل مقصد کمزور پڑ جاتا ہے۔
---
🔹 حقیقی تسکین کا طریقہ
1. پیشگی محبت (Foreplay) ضروری ہے
عورت کا دل اور جسم آہستہ آہستہ آمادہ ہوتا ہے، جبکہ مرد جلدی تیار ہو جاتا ہے۔
بیوی سے باتیں کرنا، پیار کرنا، بوس و کنار اور نرمی اختیار کرنا لازمی ہے تاکہ عورت بھی ذہنی و جسمانی طور پر تیار ہو جائے۔
2. تنوع (Variety) رکھنا
اسلام میں سیدھی پوزیشن سب سے بہتر اور فطری ہے، لیکن دیگر جائز طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
قرآن میں بھی اجازت ہے کہ "تم اپنی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ" (البقرہ: 223) یعنی طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ شرمگاہ کے مقام میں ہی ہو۔
3. عورت کی خواہش کا خیال
شوہر کو چاہیے کہ وہ صرف اپنی تسکین پر نہ رکے بلکہ اس وقت تک عورت کے ساتھ رہے جب تک وہ بھی سکون و لذت نہ پا لے۔
اگر مرد جلدی فارغ ہو جائے اور عورت کی خواہش باقی رہ جائے تو یہ عورت کے حق میں زیادتی ہے۔
4. جسمانی و ذہنی سکون
حقیقی تسکین تب ہوتی ہے جب دونوں ایک دوسرے کو خوش کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
صرف جسمانی عمل نہیں، بلکہ ذہنی قربت، محبت اور عزت بھی بہت بڑا حصہ ہے۔

Comments
Post a Comment