انگلی سے پانی پہلی بار سوشل میڈیا پر اتنی گندی کہانی بچے نہ پڑھے

 


میری شادی کو ابھی دو مہینے ہی ہوئے تھے۔ ان دو مہینوں میں جب بھی میں نے اپنے شوہر سے کچھ مانگا تو وہ ہمیشہ کہتا، "بھائی سے پوچھ کر لاتا ہوں۔" ہر بات میں میرے شوہر اپنے بڑے بھائی کی اجازت لیتے تھے۔ ا تھا، لیکن ابھی تک اس کی شوہر سے بڑا میرا دیور میرے شوہر شادی نہیں ہوئی تھی۔ ایک دن میں نے اپنے شوہر سے پوچھا، "تمہارے بھائی نے شادی کیوں نہیں کی؟" تو
پوچھا، مہارے جان سے سادی ہوں میں : و میرے شوہر نے کہا، "ہمیں اس بات کا کچھ پتہ نہیں۔ اس لیے ماں نے میری شادی کروا دی۔ " میرا دیور چالیس سال کا ہو چکا تھا۔ آہستہ آہستہ مجھے سمجھ آنا شروع ہو گیا کہ ... میرے سرال کی ساری جائیداد دیور کے نام تھی۔ انہوں نے خود ایک کمپنی بنا رکھی تھی اور میرا شوہر اسی میں کام کرتا تھا۔ ایک دن میری ساس مجھ سے بولی، " تم گھر آ چکی ہو تو اپنے دیور کو شادی کے کرو۔ چند دنوں تک میں نے دیور کو شادی لیے راضی کرو۔" کے بارے میں سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ لیکن وہ
کسی کی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ میں نے کئی بار اس سے شادی نہ کرنے کی وجہ پوچھی مگر کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ دو مہینے کے اندر ہی سسرال میں اچھی طرح رج بس گئی تھی۔ میرے سر نہیں تھے، ان کی جگہ دیور گھر سنبھال رہا تھا۔ میرے دیور مجھ پر بھی کسی بات کے لیے روک ٹوک نہیں کرتے تھے۔ ایک دن میرے دیور کو بخار، زکام اور بخار اتنا زیادہ ہو گیا کہ انہیں اسپتال میں داخل کروانا پڑا۔ میں روزانہ اپنے دیور کے لیے کھانا بنا کر اسپتال لے جاتی تھی۔ دس دن کے بعد دیور کو اسپتال سے گھر لے آئے۔ اسپتال کے چکر لگانے سے
میں بہت تھک گئی تھی۔ گھر میں نوکرانی بھی کام کرتی تھی تھی، لیکن میرے دیور کو میرے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا زیادہ پسند تھا۔ دیور بیمار تھا اس لیے دفتر نہیں جا رہا تھا۔ وہ سیارا دن گھر پر ہوتا اور میں سارا دن اس کی خدمت کرتی۔ ایک دین دوپہر کے وقت میں... دیور کو سوپ پلائی جا رہی تھی۔ دیکھا کہ ان کے جسم میں بہت درد تھا۔ وہ تھوڑا بھی ہاتھ نہیں اٹھا پا رہے تھے۔ انہیں سہارا دینے کے بعد ان کا منہ اپنی ساڑی کے پلو سے صاف کیا۔ جیسے ہی میں نے پلو ہٹایا، وہ مجھے ایک الگ ہی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ دیور کی بیماری کے دوران
دن بھر میں ان کے پاس بیٹھی رہتی تھی۔ میری دیکھ بھال سے دیور اتنے متاثر ہوئے کہ مجھ سے کہنے لگے، "تمہیں کیا چاہیے؟ جو بھی تمہیں چاہیے ہوگا، میں تمہیں دلوا دوں گا۔ " میں نے کہا، " پچھلے ہفتے میں نے ایک نیا سیونا کا ہار دیکھا تھا۔ اسے لینے کی میری بہت خواہش تھی۔ لیکن ... " میرے شوہر نے پیسوں کی کمی کی وجہ سے اسے لینے سے انکار کر دیا تھا۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگا، تمہیں وہ ہار پسند آیا تھا تو تم مجھے بتا دیتی، میں اسی وقت تمہیں لے دیتا۔ پھر انہوں نے فوراً اپنا کارڈ مجھے دے دیا اور کہا شام کو جا کر وہ خرید کر لے آنا۔
اچانک میرے دیور نے مجھے آواز دی۔ میں دوڑ کر ان کے کمرے میں پہنچ گئی۔ وہ بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور بولے، " مجھے بھوک لگی ہے، ناشتہ بنا دو۔" میں فوراً ناشتہ بنا کر لے گئی۔ جب میں انہیں ناشتہ دے رہی تھی، تو انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا، "گیلے بالوں میں تم اور بھی خوبصورت لگ رہی ہو۔" میں حیران رہ گئی۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ... میرے دیور نے نے میری تعریف کی تھی۔ لیکن اس بار ان کی کی آنکھوں آنکھ میں کچھ الگ کسی چمک تھی۔ چار دن بعد جیب میرا شوہر واپس آیا تو اس نے مجھ سے کہا، بھائی نے تمہیں ہاروا دیا۔ شاپنگ
کے لیے اپنا کارڈ دے دیا۔ اگر وہ تمہاری اتنی پرواہ کرتے ہیں تو تم ان سے میرے لیے کچھ پیسے مانگ لو۔ مجھے رقم کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے، میں ان سے بات کرتی ہوں۔ رات کو جب میرا شوہر سو گیا، میں دیور کے پاس ہلدی والا دودھ پلانے ان کے کمرے میں گئی۔ میں نے دودھ دیا تو وہ میری تعریف کرنے لگے۔ یہ ساڑی تم پر بہت پیاری لگ رہی ہے۔ باتوں باتوں میں میں نے اپنے شوہر کی ضرورت کا ذکر کر دیا۔ دیور نے فوراً پوچھا، "نہیں کتنی رقم چاہیے ؟" میں نے اپنے نام سے رقم مانگی تو انہوں نے بغیر کسی سوال کے
چیک دے دیا۔ پھر اچانک انہوں نے کہا، جب تم اپنے شوہر کے ساتھ ہوتی ہو تو مجھے جلتا ہے۔ بھی بھی لگتا ہے کاش تم میرے ساتھ ہوتی۔ میں گھبرا کر وہاں سے چلی آئی۔ اگلے دن جب میں نے وہ بات اپنے شوہر کو بتائی تو وہ حیران ہوا۔ میرا بھائی تم پر اتنا مہربان کیسے ہو سکتا ہے۔ اس دن ساس اپنی بہن کے گھر چلی گئی تھی۔ شوہر دفتر گیا ہوا تھا۔ میں نہا کر اپنے کمرے میں ساڑی پہن ہی رہی تھی۔ اتنے میں اچانک دروازہ کھلا۔ دیور کمرے میں آیا اور بولا، "مجھے معاف کر دو۔" میں نے کہا، "کل رات تم سے غلطی ہو گئی تھی۔" میں نے کہا،
کوئی بات نہیں، تم پریشان مت ہونا۔" وہ معافی مانگ کے چلا گیا۔ رات کو جب سب سو گئے تو میں چپکے سے دیور کے کمرے میں گئی۔ وہ گہری نیند میں تھا۔ اچانک لائٹ جل گئی۔ پیچھے مڑ کے دیکھا تو میرا شوہر کھڑا تھا۔ وہ غصے میں بولا، "تم میرے بھائی کے کمرے میں کیا کر رہی ہو ؟" میں ڈرتے بھی ہے بولی، " میں ڈاکٹر کو لے کر آئی تھی تاکہ دیور کو انجیکشن لگا سکوں۔" دیور کی آنکھ کھل گئی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ میرے شوہر نے کہا، " آپ فکر مت کریں۔ میں آپ کو کچھ ہونے نہیں دوں گا۔ " دیور نے
سمجھایا، "تم غلط سمجھ رہے ہو۔ مجھے تمہاری بیوی پر پورا بھروسہ ہے۔" پھر انہوں نے اپنا راز بتایا۔ " میں نے شادی اس لیے نہیں کی کیونکہ میں ایک لڑکی ۔ تھا جو کینسر کی وجہ سے مر گئی تھی۔ کرتا سے محبت تھی۔ اس دن کے بعد میں نے صرف پیسہ کمانے پر توجہ دی۔" میں نے کہا، " آپ شادی کر لیں۔ یقین کریں، آپ کو اپنی بیوی میں وہی لڑکی نظر نظر آئے آئے گی۔ گی۔ " ایک مہینے بعد میرے دیور نے شادی کر کر لی۔ پورے گھر میں خوشی کی لہر تھی،

خاص طور پر میری ساس بہت خوش تھیں۔
دوست اس کہانی کی الگ الگ تصویر prompt بنا کے دو
انگلش میں

Comments