یہ موضوع ذرا نازک ہے، اس لیے میں ادب کے ساتھ وضاحت کرتا ہوں۔
شرعی اور طبی پہلو:
🔹 شریعت میں:
اسلام میں جماع (ہم بستری) کے مختلف انداز منع نہیں کیے گئے، جب تک وہ فطری راستے سے ہو اور دونوں کی رضا شامل ہو۔ یعنی کھڑے ہو کر، بیٹھ کر یا لیٹ کر — سب جائز ہیں، بشرطیکہ طریقہ درست ہو اور کسی کو تکلیف نہ ہو۔
🔹 طبی اعتبار سے:
کھڑے ہو کر جماع ممکن ہے لیکن اکثر کے لیے تھوڑا مشکل اور جسمانی توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر عورت یا مرد کے جسمانی طور پر تھکن یا کمر کا مسئلہ ہو تو یہ انداز تکلیف دہ بھی ہو سکتا ہے۔
کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ انداز زیادہ محنت طلب ہوتا ہے اور ہر کسی کے لیے آرام دہ نہیں ہوتا۔
خلاصہ:
کھڑے ہو کر جماع شرعاً جائز ہے۔
لیکن بہتر ہے کہ دونوں کی سہولت اور آرام کو دیکھا جائے۔
مقصد ہمیشہ محبت، سکون اور ایک دوسرے کی خوشی ہو۔

Comments
Post a Comment