بارش کی خوشبو
بارش کی بوندیں جب زمین سے ٹکرائیں، تو مٹی کی خوشبو ہوا میں بکھر گئی۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چائے کے کپ لیے چھت پر کھڑے تھے۔ نازلی کے بال بارش سے بھیگ چکے تھے اور احمر اُس کی آنکھوں میں چھپے خواب پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
"بارش تمہیں ہمیشہ اتنی پسند کیوں ہے؟" احمر نے نرمی سے پوچھا۔
نازلی مسکرائی، "کیونکہ بارش مجھے تمہاری یاد دلاتی ہے… پہلی بار جب ہم ملے تھے، اسی طرح بارش ہو رہی تھی۔"
احمر نے ایک قدم آگے بڑھایا اور اس کے قریب آ کر کہا، "اور مجھے تمہاری مسکراہٹ ہر بار پہلی بار جیسی لگتی ہے۔"
وہ خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، بارش ان پر گرتی رہی، جیسے وقت کچھ لمحوں کے لیے رک گیا ہ
چلیے، کہانی کا تسلسل لکھتے ہیں:
بارش کی خوشبو (حصہ دوم)
رات گہری ہو چکی تھی۔ بارش تھم چکی تھی مگر چھت پر پڑی بوندوں کی خوشبو اب بھی باقی تھی۔ نازلی اب چادر میں لپٹی، احمر کے ساتھ چھت کے ایک کونے میں بیٹھی تھی۔ خاموشی ان کے درمیان پل باندھ رہی تھی—ایک ایسی خاموشی جو لفظوں سے زیادہ بولتی ہے۔
"کبھی سوچا ہے ہم دس سال بعد کہاں ہوں گے؟" نازلی نے سرگوشی میں پوچھا۔
احمر نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر نازلی کی طرف، "ہاں، سوچا ہے... اور ہر خیال میں تم ساتھ ہوتی ہو۔ شاید ایک چھوٹا سا گھر ہو، اس کے آنگن میں ایسی ہی بارش ہو، اور ہم ویسے ہی چائے پی رہے ہوں۔"
نازلی نے دھیرے سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ "بس، اتنا سا خواب کافی ہے میرے لیے۔"
احمر نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے چھوا۔ "اور میں وعدہ کرتا ہوں، اس خواب کو حقیقت میں بدل دوں گا۔"
نیچے شہر کی روشنی جھلملا رہی تھی، اور ان دونوں کے دلوں میں ایک نئی امید جاگ چکی تھی — محبت کی، وفا کی، اور ایک ساتھ جینے کی۔


Comments
Post a Comment