سوال نمبر 1۔ ایک بھائ پوچھتے ہیں آپ نکاح والی رات ہمبستری کرنے سے منع کرتے ہیں جبکہ ولیمہ سے پہلے ہمبستری تو بہت ضروری ہے۔


 سوال نمبر 1۔ ایک بھائ پوچھتے ہیں آپ نکاح والی رات ہمبستری کرنے سے منع کرتے ہیں جبکہ ولیمہ سے پہلے ہمبستری تو بہت ضروری ہے۔


جواب: جناب میں منع کرنے والا کون ہوتا ہوں؟ ایک مشورہ تحریر کے اندر لکھا تھا اور اسی تحریر میں آپکے سوال کا مکمل جواب ہے، اول تو یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ ہمبستری کا ولیمہ سے کسی قسم کا کوئ تعلق نہیں ہے۔ ولیمہ رسول اللہﷺ کی سنت ہے جو نکاح کی خوشی میں کیا جاتا ہے۔ میں نے جو لکھا تھا آج کے ماحول کو سامنے رکھتے ہوۓ لکھا تھا کہ ہماری شادیوں میں رخصتی ہی رات کو 3 سے 4 بجے تک ہوتی ہے، گھر آتے کمرے میں پہنچتے 5 بج جاتے ہیں، آدھے گھنٹے بعد فجر ہے، اب اِس آدھے گھنٹے میں کیا کیا کرلو گے ؟ ظاہر ہے افرا تفری میں درندہ بنے گا کہ بس آج ہی کرنا ہے کیوں کہ کل ولیمہ ہے۔۔ نہیں بھائ۔۔۔۔۔ولیمہ کے لیۓ ہمبستری ہونا کوئ ضروری نہیں ہے۔

یہ جو آدھا ایک یا دو گھنٹے باقی رہتے ہیں اس میں بیوی سے پیار محبت و دل لگی کی باتیں کر، نیا نیا ملاپ ہے، لڑکی دوسرے گھر سے آئ ہے سکون کا مظاہرہ کر۔ ہمبستری پُر سکون ماحول میں اچھی لگتی ہیں افرا تفری میں بیڑا غرق کردیے گی۔ شوہر کو ساری زندگی بیوی کی نظروں میں گِرا دے گی، کمرے میں پہنچے فجر میں دو گھنٹے باقی ہیں مشورہ یہی دوں گا صرف پیار محبت دل لگی کی باتیں کرو۔ اگر پہلی رات بہت شوق ہے تو اپنی شادیاں دن میں کرو تاکہ رات کو مکمل وقت حاصل ہوجاۓ۔


سوال نمبر 2: ایک بہن کہتی ہیں آپ کی تحریر پڑھ کر شوہر کے لیے سجنا سنورنا اختیار کیا تو شوہر تو واقعی خوش ہوجاتے ہیں لیکن ساس کے طعنے شروع ہوگۓ کہ آج کی لڑکیاں فیشن کروالو، لپسٹک لگالو، گھریلو لڑکیوں کو یہ چوچلے زیب نہیں دیتے۔


جواب: جواب: میری بہن یہ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے، ساس کی باتوں کو طعنہ نا سمجھیں، ساس کی جو بات گِراں گذرے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیں، ساس کی باتیں دل پر لیں گی تو اذیتوں کا شکار ہوتی چلی جایئں گی، شوہر واسطے زیب و زینت کی عادت شادی کے پہلے دن سے ہونی چاہیے۔ اب اچانک گھر میں عورت سجنا سنورنا شروع کردے تو سوالات تو اُٹھنے ہیں کہ پہلے گھر میں اسکو ایسا نہ دیکھا ہم نے۔ جب بندہ نیا نیا نمازی بنتا ہے تو کئ باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ بڑا آیا مولوی، بڑا آیا نیک و کار، اب اگر باتیں سن کر نماز دوبارہ چھوڑ دی جاۓ تو بندے کا اپنا نقصان ہے۔ لہذا ساس کی باتیں درگذر کریں، اور شوہر واسطے زیب و زینت کا عمل جاری رکھیں، کوئ پوچھتا ہے تو بے فکر ہوکر کہیں میرے نبیﷺ کا فرمان یے کہ شوہر واسطے زیب و زینت اختیار کرو۔


سوال نمبر 3: ایک خاتون پوچھتی ہیں کہ میرے منگیتر میرے علاوہ بھی دوسری لڑکیوں سے فون پر رابطہ رکھتے ہیں۔ بہت بار سمجھایا لیکن نہیں سمجھتے تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہہے  ؟


جواب : اول تو تصدیق ہونی چاہہۓ کہ واقعی آپکا منگیتر اس فعل میں ملوث ہے یا نہیں۔ کیوں کہ بہت سی خواتین شکی مزاج ہوتی ہیں اور فضول میں شک کرکے اپنا گھر خراب کر رہی ہوتی ہیں۔ لہذا پہلے آپ مکمل طور پر تصدیق کریں کہ آیا واقعی آپکا منگیتر اس فعل میں ملوث ہے یا نہیں۔ اگر وہ واقعی ملوث ہے تو پھر ابھی آپکے پاس وقت ہے پہلی فرصت میں آپکو منگنی ختم کردینی چاہہۓ۔ کیوں کہ یہ بہت بری عادت ہے شادی کے بعد بھی جان نہیں چھوڑتی۔ ہر صورت ایسے آدمی سے خود کو بچایئں۔


سوال نمبر 4: ایک بھائ پوچھتے ہیں کہ میری نئ شادی ہوئ ہے۔ بیگم ہو ہر ماہ کتنا جیب خرچ دینا چاہہۓ ؟


جواب: اپنی استطاعت کے مطابق۔ 10 ہزار۔ 05 ہزار۔ 03 ہزار جتنی شوہر کی حیثیت ہو اسکے مطابق بیوی کو جیب خرچ دیدے اور پھر اس سے اسکا حساب نہ مانگے کہ کہاں خرچ کیے۔


سوال نمبر 5: ایک بھائ پوچھتے ہیں کہ میری بیگم میرے والدین سے ناراض ہوکر میکے چلی گئ ہے اور کہتی ہے کہ آپکے والدین آکر معافی مانگیں تو واپس گھر آؤں گی۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہہۓ ؟


جواب: بیگم کے اس غلیظ تقاضے کے بعد بھی اگر آپ اسے گھر لانا چاہتے ہیں تو بیگم سے زیادہ آپکو اصلاح کی ضرورت ہے۔ والدین غلط بھی ہوں تو بھی ان سے معافی نہیں کروائ جاتی۔ ایسی عورت کو واپس لانے کا سوچنے پر آپکو اپنے والدین سے معافی مانگنی چاہہۓ۔ پڑی رہنے دیجیے ایسی عورت کو اسکے میکے میں۔ اور جب اسکی عقل ٹھکانے آجاۓ اور وہ واپس آنا چاہے تو آپ شرط رکھیں کہ گھر آکر میرے والدین سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگو گی تو گھر میں آسکتی ہو ورنہ نہیں۔ غلطی کسی کی بھی ہو لیکن والدین سے معافی کا سوچنا بھی انتہائ گھٹیا غلیظ بیغیرت انسان کی علامت ہے۔


محمد سالک شفیق ہالائ

#salikshafique 


نوٹ: مذید سوالات و جوابات کی قسط نمبر 2 انشاءاللہ بروز اتوار پوسٹ کی جاۓ گی۔

Comments