*بیویوں کو ستانے والوں کا عبرتناک انجام*
*_حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :_*
اپنی بیوی کے پاس مسکراتے ہوئے آنا ، یہ سنت آج چھوٹی ہوئی ہے، جو بے دین ہیں وہ فرعون بن کر آتے ہیں، بڑی بڑی مونچھیں تان کرکے آنکھیں لال کرکے، تاکہ گھر والے رعب میں رہیں، ایسا نہ ہو کہ مجھ سے بیوی کچھ کہہ دے، اس لیے اس پر رعب جمانے کے لئے نمرود وفرعون بن کر آتے ہیں۔
اور جو دیندار ہیں وہ گویا بایزید بسطامی اور خواجہ معین الدین چشتی اور بابا فرید الدین عطار بن کر آتے ہیں، مراقبہ میں آنکھیں بند کیے ہوئے، گویا عرش پر رہتے ہیں، زمین کی بات تو جانتے ہی نہیں، بیوی کی طرف تو محبت بھری نگاہ سے دیکھے گے ہی نہیں، بات بات پر جھڑک دینا، وہ بیچاری بات کرنا چاہتی ہے، یہ سرکار تسبیح لیے بیٹھے ہیں۔
دن بھر وہ بیچاری آپ کی منتظر ہے کہ اب میرا شوہر آئے گا تو اس سے دل بہلاوں گی، اور آپ گھر آتے ہی تسبیح لے کر بیٹھ گئے یا آتے ہی ٹیلیفون پر دوستوں سے باتوں میں ھوں یا کاروبار کی فکر میں لگ گئے، یا سوالات کا انبار لگادیا، یہ کام کرلیا، میں نے کہا تھا، یہ ہوگیا ؟ اس کا کیا ہوا ؟ کیوں نہیں ہوا ؟ اتنی دیر سے کیا کرتی رہی ؟ وغیرہ۔
یاد رکھیں یہ دونوں بیان کردہ طرز عمل خلاف سنت ہیں۔
گھر میں اپنی بیوی کے پاس جائیں تو مسکراتے ہوئے جائیں، اس سے باتیں کریں، اس کے کاموں میں ہاتھ بٹاکر سنت زندہ کیجئے، اور اللہ تعالی کو خوش کیجئے، تسبیحات ونوافل سے زیادہ ثواب والا کام اس وقت یہ ہے کہ اس کا حق ادا کیجئے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : کہ سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا وہ ہے، جس کے اخلاق بیوی کے ساتھ اچھے ہوں۔
ہم دوستوں میں تو خوب ہنسیں گے، خوب لطیفے سنائیں گے، اور اپنی بیوی کے پاس جاکر سنجیدہ بزرگ بن جائیں گے، منہ سکیڑے ہوئے جیسا کہ ہنسنا جانتے ہی نہیں ہیں۔
مزید فرماتے ہیں : کہ اپنا تجربہ بتارہا ہوں، کہ جتنے لوگوں نے اپنی بیویوں کو ستایا اور رلایا، اور ان کی ٹھنڈی آہ کھنچوائی، میں نے ان کو دیکھا کہ کو فالج کا اٹیک ہوا، کسی کو کینسر ہوا، فرماتے ہیں کہ آنکھوں سے دیکھا ہوا حال بتارہا ہوں اور جس نے اللہ کی بندیوں پر رحم کیا، وہ اتنا جلدی ولی بنا جس کی کوئی حد نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
*آپ اب خود سوچ لیں کہ اللہ کی بندی کو جائز حدود میں خوش رکھ کر اللہ کا ولی بننا ہے یا پھر اللہ کی بندیوں کو بلاوجہ تکلیفیں دے کر اللہ کو ناراض کرنا ہے ؟؟؟*

Comments
Post a Comment