پاکدامن اور بدکرادر بیوی


(پاکدامن اور بدکرادر بیوی) ایک غیرت مند مرد کو چاہیے کے عورت کا خوبصورت ہونا نا دیکھے بلکہ نکاح کی پہلی رات اس خوبصورت جلد والی لڑکی کی پاک دامنی دیکھے ۔ کے کیا یہ لڑکی جیسے چہرے سے بہت زیادہ خوبصورت ہے کیا وہ دامنی طور پر بھی پاک اور خوبصورت ہے جیسا کے سب ایمان والوں کو پتہ ہے کے اللہ تعالی نے عورت کی پاک دامنی کو خون کے چند دھبوں میں رکھا ہوا ہے خون کے چند دھبے عورت کی پاکدامنی کی گواہی لیکر نکلتے ہیں اگر بیوی کا پردہ بکارت محفوظ تھا پاک دامن ہے تو اسے اسی وقت دو قدم پیچھے ہٹ کر ایک زور دار سیلوٹ کریں کے جو اس فحاش دور میں بھی خود کو پاکدامن صرف آپ خاوند کے لیے لیکر آئی ہوتی ہے ایسی بیوی کو عزت دے دے کر خدمت کر کر کے نواز دیں کیوں کے ایسی بیوی قسمت والوں کو ملتی ہے اور جسے مل جائے اسے دنیا کی سب سے وفادار چیز مل جاتی ہے کیوں کے ایسی بیوی جوانی کی بھڑکتی ہوئی آگ میں کنٹرول کرسکتی ہے تو پھر شادی ہونے کے بعد کونسا اپنے خاوند کی عزت کا جنازہ نکالے گی ایسی بیوی کو کہیں اکیلے میں بھیجیں یا ساتھ میں کسی کو بھیجیں آپ خاوند کی عزت محفوظ ہی رہے گی اور مردوں کی طرح کڑک دار رہے گی اور ایسے قسمت والے خاوند کو بھی چاہیے کے اپنی پاکدامن بیوی کی زندگی جنت بنادے اس سے محبت کرے مزاق کرے کھیلے کودے گھومنے جائے اور اس کی مرضی کے مطابق اس کے ساتھ جماع کرے کیوں کے ایسی بیوی ہر قسم کے جماع کرنے کا حق رکھتی جو جماع اس کا لزتوں سے بھرا انعام ہے اور اگر وہ صرف خوبصورت ہے پاک دامن نہی ہے تو پھر آپ میں جتنی غیرت ہوئی ویسا کریں کیونکہ اگر آپ نے بطور خوبصورتی پر بیوی کو رکھ لیا اور پلیت ناپاک زانی دامن پر خاموش ہوگئے تو ایسی عورتوں کو مختلف ذائیقوں کی چس لگی ہوتی ہے وہ کبھی کسی ایک کو بار بار نہی چکھ سکتی ایسی بدکردار عورت کے منہ پر تھوک کر اسی وقت آپ نے طلاق نہ دی تو ایسی عورتوں کے ساتھ شادی کی مدت بھی بہت کم رہتی ہے کیا فائید اس وقت طلاق دینے کا جب آپ کے ایسی بدکردار عورت سے اولاد ہوجائے پھر آپ خاوند نے اگر طلاق دے بھی دی تو آپ کے بچوں کی زندگی بھی تباہ ہوجائے گی ایسی زانیہ عورتوں کے منہ پر تھوک کر اپنی تھوک کی بھی بے حرمتی مت کریں زانیہ عورت صرف سہاگ رات پاس کروانے کے لیے معصوم بنتی ہے خاوند کو سہاگ رات والے دن بہت زیادہ مزے دیتی یے تا کے کسی طریقے زانیہ کا خاوند اس کی بدکرداری معلوم ہونے پر معاف کردے پھر جب سہاگ رات پاس ہوجاتی ہے تو بعد میں سارے گھر کا ستیاناس کر دیتی ہے پھر خاوند لاکھ بار کسی کو کہے کے یہ بدکردار تھی تو کوئی بھی نہی مانے گا سب ایسا ہی کہیں گے کے آپ کا اس سے جی بھر گیا ہے اس لیے اس بیچاری پر زناء کاری کی مہریں تھوپ رہے ہو وغیرہ وغیرہ بات بہت زیادہ لمبی ہوجائے گی کیوں کے جس مرد نے بھی زانیہ عورت پر خداترسی کر کے اس کو قبول کیا پھر اسی کم ضرف زانیہ نے ہی اسی خاوند کا گھر تباہ برباد کر کے رکھ دیا ہوتا ہے ایک دو سال بعد طلاق لیکر ہی جان چھوڑتی ہیں اور اولاد کی بھی زندگی تباہ کر جاتی ہیں پھر کوٹ کچہری کے ڈگری کیس جھیلتے رہیں تاریخ بہ تاریخ عدالتوں میں دھکے لیتے رہیں اور عدالتیں بھی ہمیشہ عورت کی طرف داری کرتی ہیں چاہے وہ عورت ہیرا منڈی کی طوائیف ہی کیوں نہ ہو اور مرد بادشاہی مسجد کا امام ہی کیوں نہ ہوا تو پھر بھی عدالت عورت کو سچا اور مظلوم کہے گی لہذا پاکدامن کو ولی جتنی عزت دیں اور بدکرادر عورت کے ساتھ اتنا کریں جتنی آپ خاوند کے اندر غیرت ہو کیوں کے انسان کا سب کچھ اس کی غیرت پر ہی ڈیپنڈ کرتا ہے ـ

Comments