بلوغت کے وقت
میں بہت ساری جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو مسلم زیر نافع ہوتی ہیں ، نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ آنا جانا پڑتا ہے اور پھر اس کی وجہ سے (عضو تناسل) لیس دار دار مادے کا سفر ہونا ضروری ہے۔
جنس مخالفین کی طرف متوجہ کرنا ، شادی کا حساب کتاب اور ایک ماہواری کا خون آنا جیسے چیزیں شامل ہیں جن میں اکثر نوجوانوں کو شک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے نوجوانوں کو صحیح معلومات نہیں ملتی ہیں اور وہ ان چیزوں کی جانکاری حاصل نہیں کرتے ہیں جو چنانچہ نیم حکیم اور دیواروں سے متعلق جانکاری کے بارے میں معلومات کی وجہ سے اکثر نوجوان تحریکوں سے ہی خطرناک جنسی اور جسمانی بیماریاں سمجھتے ہیں۔ اس پریشانی کی وجہ سے وہ دباؤ اور دباؤ کا شکار ہے۔
مکمل طور پر ظاہر ہونے والی چیزوں کے علاوہ اگر وہ خود بھی بری طرح کی باتیں کرتا ہے اور عادتوں میں ہوتا ہے تو اسے اکثر ہر مرض کی تلاش ہوتی ہے۔
اس مرض میں فرسٹ مشاہداتی اور ذمہ داری کی فراہمی اس کے اندر کی کوئی چیز نہیں ہے لیکن یہ اس بات کی یقین دہانی نہیں کرسکتا ہے۔ شاید مجھے اس بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، لیکن کوئی جسمانی بیماری نہیں ہو سکتی ہے ، لیکن یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔ لیکن اس میں بہت کم حقیقت ہے۔
عام طور پر پندرہ سال کی عمر میں جنسی غد غوں کی کارکردگی کی وجہ سے نوجوانوں میں زیادہ تر جنسی تعلقات رہتے ہیں جن کی وجہ سے وہ جنسی طور پر خود بخود رہتے ہیں جس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر وہی اختیار ہے اور پھر آپ کی زندگی کو کوٹنا ہے۔
منی کے اخراجات کے چار اہم مقامات ہیں۔
1. شادی
2. احتلام
3. خود لذتی
4. زنا
ہر بالغ فرد مذاق میں سے کسی کو اختیار نہیں ہوتا ہے۔
مجھے کسی بھی فرد کی تلاش نہیں ہے ، جو جوان ہوسکتا ہے اور جنسی استحصال کے لک مذاق کی رائے میں بھی کسی کا اختیار نہیں ہوتا ہے۔
اگر آپ ذہانت میں کوئی بند ہوجائیں تو فوری طور پر آپ سے رابطہ کریں ہم اس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ درج کریں گے۔
کسی مستند ڈاکٹر حکیم یا طبیب کے ساتھ مشورہ کریں۔

Comments
Post a Comment