(شادی کی عمر)

 (شادی کی عمر)


لڑکا ہو یا لڑکی بارہ سے چودہ سال کی عمر میں بالغ ہوجاتے ہیں.

جب بالغ ہوجاتے ہیں تو انہوں کا گزارہ  صرف کھانے پینے سے نہی ہوتا ـ


پھر جسمانی آرام کہ لیے شرعی نکاح شادی کی ضرورت پڑھتی ہے

جس کی زبردست عمر  اٹھارہ سال ہے.


اگر اٹھارہ سال کی عمر تک شادی نہ ہو تو  جسمانی آرام کہ لیے انسان گناہ تک پہنچ سکتا ہے سب سے پہلے کوشش زناء کی کریں گے. 


اگر کسی کہ پاس زناء کرنے کی رقم نہ یا جگہ وغیرہ نہ ہوتو  اپنے ہاتھوں سے  وہ گناہ کر سکتے ہیں


جسے کرنے کی سزا  میں  لڑکوں  اور  لڑکیوں کہ قیامت والے دن  ہاتھ  اور انگلیاں حاملہ ہونگی. 


جو لوگ شادی کی عمر کو  اٹھارہ سال سے زائید کی عمر سمجھتے کہتے بولتے ہیں.


یعنی کہ  25  یا   30 سال  کی عمر کو شادی کی بہترین عمر سمجھتے کہتے ہیں ـ


تو  وہ لوگ آج کل کہ فحاش دور میں  اپنے ایمان کی طاقت سے پچیس   تیس سالوں تک کا گزاراہ نہی کرسکتے 


بلکہ زناء کی مدد سے  پچیس سے  تیس  سال تک خود کو پہنچا پاتے ہیں.


کیونکہ بلوغت کے بعد ہر بالغ لڑکی اور لڑکے کو جسمانی اور دماغی سکون کے لیے مباشرت کی ضرورت پڑھتی ہے 


جسے  کرنے کا  بہترین شرعی طریقہ نکاح ہے جو لوگ بلوغت کے بعد شادیاں نہی کرواتے وہ کسی صورت بھی کنٹرول نہی کرسکتے 


کیوں کے اللہ تعالی نے شہوت کا سسٹم بھی بنایا ہے ہر انسان میں عمر کے ساتھ ساتھ شہوت بھڑکتے ہیں جو جتنا تازہ ترین نوجوان انسان ہوگا اس کے شہوت بھڑکتے ہیں چاہے


وہ جنس میں کوئی بھی ہو  عورت ہو یا مرد ہو اگر وہ نیا نجوان ہے تو اس کے اتنے ہی زیادہ شہوت بھڑکتے ہونگے 


ٹھنڈے سے ٹھنڈے انسان کے بھی زیادہ نہی تو ہفتے میں ایک بار شہوت ضرور بھڑکتے ہیں جسے وہ کنٹرول نہی کرپاتا کیوں کے شہوت کا عمل  نیچرل ہے 


جب شہوت ابھرتے ہیں تو نوجوان نسل سے گناہ ہوجاتا ہے چاہے وہ گناہ  خودلزتی ہو یا زناء ہو 


تو جو لوگ کہتے ہیں شادی کی اصل عمر پچیس یا تیس سال ہے وہ صد فیصد زناء میں یا کسی اور گناہ میں ملحوظ ہیں 


اس لیے خود کو بلوغت کے بعد بغیر شادی کے  پچیس سے تیس سال تک پہنچا پاتے ہیں یا اس سے بھی زیادہ  کیوں کہ جسم کو  سکون آرام مل رہا ہوتا ہے چاہے  حرام طریقے سے ہی کیوں نہ ہو.


لہذا  ہر  والدین کو  چاہیے 

کہ اپنی بیٹیوں   اور  بیٹوں  کو  زناء کرنے پر مجبور مت کریں 

انہوں کی شادیاں وقت پر کریں 


تا کہ زناء کاری کا قتل ہوسکے ............

جو بیٹیاں  یا  جو  بیٹے  شادیوں سے بھاگتے ہیں  اصل عمر میں شادیاں نہی کرنا چاہتے 


تو  والدین محترمان  بچے مت بنیں  انہوں  کی  کیڈ  لیں 

یا تو  آپ کی بچے  زناہ میں ملحوظ ہیں 

یا پھر کسی اور  گناہ میں 


وگرنہ شادی کی عمر تو بلوغت کے فورن بعد ہے ـ


Comments