جماع (حلال طریقے سے) جنت کی لذتوں میں سے ایک لذت کا نمونہ اور پیش خیمہ ہے


 امام غزالی اور حضرت جنید بغدادی کا قول

حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب احیاء العلوم الدین (کتاب آداب النکاح) میں فرماتے ہیں کہ جماع (حلال طریقے سے) جنت کی لذتوں میں سے ایک لذت کا نمونہ اور پیش خیمہ ہے۔ یعنی یہ دنیا میں ایک ایسی خوشی دیتا ہے جو اگر دائمی ہو تو جنت کی لذتوں جیسی ہو گی، اور یہ اللہ کی طرف راغب کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔

اسی طرح حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان کو جماع کی ضرورت غذا جیسی ہے، کیونکہ یہ بیوی کی طہارت (پاکیزگی اور حفاظت) کا سبب بنتا ہے اور گناہ سے بچاتا ہے۔

یہ دونوں اقوال درست ہیں اور اسلامی تصوف میں شادی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

حدیث میں جائز اور حرام کا موازنہ

حدیث میں ہے کہ جس طرح حرام صحبت (زنا وغیرہ) پر گناہ ہوتا ہے، اسی طرح جائز (حلال) طریقے سے بیوی سے ہمبستری پر نیکی اور اجر ملتا ہے۔ یہ بات صحیح مسلم کی ایک حدیث سے ثابت ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سے ہر ایک کی شرمگاہ میں بھی صدقہ ہے۔"

صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم اپنی شہوت پوری کرتے ہیں تو کیا اجر ہے؟

فرمایا: "اگر وہ حرام میں استعمال کرے تو گناہ ہوتا ہے، تو حلال میں استعمال کرنے پر بھی اجر ہوتا ہے۔"

(صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ حلال تعلقات اللہ کی رضا کا ذریعہ بنتے ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منسوب روایت کی وضاحت

آپ نے جو تفصیلی روایت نقل کی ہے (ہاتھ پکڑنے پر ایک نیکی، گلے میں ہاتھ ڈالنے پر دس نیکیاں، جماع پر دنیا و ما فیہا سے افضل، غسل پر ہر بال کے بدلے نیکی، گناہ معافی اور درجہ بلند ہونا وغیرہ)، یہ روایت غنیۃ الطالبین اور بعض دیگر کتابوں میں ملتی ہے، اور اسے بعض بزرگانِ دین نے نقل کیا ہے۔

لیکن محدثین کی تحقیق کے مطابق:

اس کی سند میں کچھ کمزوری ہے (جیسے زياد بن ميمون پر کلام ہے)۔

امام دار قطنی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے باطل قرار دیا ہے۔

اس لیے اس روایت کے بالکل مخصوص اعداد و شمار (جیسے ہر بال کے بدلے ایک نیکی) پر مکمل اعتماد نہیں کیا جاتا۔

البتہ مضمون کی طرف اشارہ کرنے والی احادیث موجود ہیں کہ حلال جماع اور اس کے بعد غسل جنابت اللہ کی طرف سے بہت بڑا اجر اور پاکیزگی کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے عمل پر فخر بھی فرماتا ہے (جیسے سرد رات میں غسل کے لیے اٹھنے والے پر)۔

یہ بات درست ہے کہ جائز ہمبستری:

گناہ سے بچاتی ہے۔

اولاد کی پیدائش کا سبب بنتی ہے۔

میاں بیوی کے درمیان محبت اور سکون بڑھاتی ہے۔

اور اگر نیت اللہ کی رضا اور حلال شہوت کی تسکین ہو تو صدقہ اور نیکی کا درجہ رکھتی ہے۔

اہم نکات اور نصیحت

نیت صاف رکھیں: اللہ کی رضا، حرام سے بچاؤ، اور سنت نبوی پر عمل کے لیے۔

آداب کا خیال رکھیں: دعا پڑھیں (جیسے "بسم اللہ، اللھم جنبنا الشیطان..." )، نرمی اور محبت سے پیش آئیں۔

حیض، نفاس اور دیگر ممنوعہ اوقات میں جماع سے مکمل اجتناب کریں۔

یہ عمل عبادت ہے جب نیت درست ہو، اور یہ جنت کی طرف راغب کرنے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حلال میں سکون اور جنت کی لذتوں کا حق دار بنائے۔ آمین

Comments